وقار یونس: سابق پاکستانی کرکٹر اپنا اکاؤنٹ ’ہیک‘ ہونے سے کیسے بچا سکتے تھے؟

یک وقت وہ بھی تھا کہ جب سوشل میڈیا نہیں تھا او معروف شخصیات کو صرف ٹی وی یا ریڈیو پر نشر ہونے والے انٹرویوز میں الفاظ کے چناؤ کا خیال رکھنا پڑتا تھا۔ لیکن اب معاملہ کچھ مختلف ہے۔
فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر ویب سائٹس کی آمد کے بعد سے شوبز سٹارز ہوں یا سب کے پسندیدہ کھلاڑی، ذاتی زندگی اب ذاتی ہرگز نہیں رہی۔ جب ہر سیکنڈ پر سوشل میڈیا کے صارفین آپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھ رہے ہوں تو احتیاط لازم ہوجاتی ہے۔
ایسا ہی کچھ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ، سابق کپتان اور اپنے یارکرز کے لیے مشہور فاسٹ بولر وقار یونس کے ساتھ ہوا۔ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جمعرات کے روز ایک فحش ویڈیو کا لنک لائیک کیا گیا اور اس طرح 17 لاکھ فالوورز والا یہ اکاؤنٹ سب کی نظروں میں آگیا۔
جہاں بعض صارفین نے وقار یونس کی وضاحت سے اتفاق کیا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے اسے سابق فاسٹ بولر کی ’معصومانہ غلطی‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے

درحقیقت ہوا کیا تھا؟

بات سادہ سی ہے۔ ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ’نازیبا ویڈیو‘ لائیک ہوئی ہے۔ لیکن یہ واقعہ اس لیے زیادہ نمایاں ہوا ہے کہ یہ اکاؤنٹ ایک معروف کرکٹر کا ہے جو دسمبر 2015 سے ٹوئٹر استعمال کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وقار یونس کے مداح حیرت میں مبتلا نظر آ رہے ہیں کہ ان کے لیجینڈ نے ایسی 'نازیبا ویڈیو' کیوں لائیک کی۔ جبکہ بعض صارفین سابق ٹیسٹ کرکٹر پر مزاحیہ میمز پر مبنی مواد شیئر کر رہے ہیں۔
ایک طبقہ فکرمند صارفین کا بھی دیکھنے کو ملا جن کو یقین تھا کہ وقار یونس سے بذات خود یہ حرکت نہیں ہوئی۔


اس واقعے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد وقار یونس نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ انکشاف کیا کہ ’میرا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا‘ جس کی وجہ سے انھوں نے اب ٹوئٹر کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وقار یونس نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے ساتھ ’ہیکنگ‘ کا واقعہ اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔

'آپ انسان ہیں آپ بھی دیکھ سکتے ہیں'

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وقار یونس کے مداح ان کے فیصلے کے بعد خاصے مایوس نظر آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کی ایک معروف شخصیت اگر سوشل میڈیا پر نظر نہیں آئے گی تو لوگ ان کی باتیں یاد کریں گے۔
وقار یونس نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ کسی نے میرا ٹوئٹر ہیک کر کے نازیبا ویڈیو کو لائیک کیا ہوا تھا جو میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے شرمناک اور تکلیف دہ بات ہے۔‘
اس ویڈیو پیغام کے شائع ہونے سے قبل بھی صارفین سابق فاسٹ بولر کا دفاع کرتے نظر آئے اور منفرد دلیل کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑتے رہے۔


ذیشان خالد نامی ایک صارف نے وقار یونس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔ آپ انسان ہیں آپ بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘
ذیشان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اکثریت عوام یہی دیکھتی ہے مگر اس واقعے کے بعد یہ لوگ سابق کرکٹر کے وقار پر سوال اٹھا رہے ہیں جس سے ان کا دوغلہ پن عیاں ہوتا ہے۔
اظہر خان نامی ایک صارف نے ان کی کرکٹ کے لیے خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لیجنڈ ہیں اور سب کو ان کی کہی بات پر یقین کرنا چاہیے۔
البتہ بہت سے صارفین کے لیے یہ ماننا مشکل تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوا ہے۔







ایک صارف نے لکھا کہ ’جب بھی معروف شخصیات سوشل میڈیا پر وہ کرتی ہیں جو انھیں نہیں کرنا چاہیے تو ہیکنگ کو ہی وہ وجہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔‘


وقار یونس وہ پہلے شخض نہیں جن کا اکاؤنٹ ’ہیک ہوا‘ ہو۔ ماضی میں بھی کرکٹرز کے علاوہ فلم اور موسیقی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے اکاؤنٹ ہیک ہوچکے ہیں۔
انڈیا کے کرکٹر سریش رائنا کے اکاؤنٹ سے ایک نازیبا ٹویٹ ہونے پر انھوں نے بعد میں وضاحت کی کہ وہ ٹویٹ ان کے بھتیجے نے کی تھی۔
ماضی میں کمار سنگاکارا اور ایئن بوتھم کے اکاؤنٹس سے نازیبا تصاویر شئیر ہوئیں جس کے بعد دونوں کرکٹرز نے اکاؤنٹ ہیک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی طرح برطانوی سیاسی رہنما مائیکل گوو سے متعلق بھی مقامی ذرائع ابلاغ پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے اکاؤنٹ سے ایک ’نازیبا تصویر‘ لائیک ہوئی تھی۔

دوسری جانب ایسی کئی شخصیات ہیں جن کے اکاؤنٹس کو واقعتاً ہیک کیا گیا اور کرنے والوں نے بعد میں اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
چاہے پاکستان تحریک انصاف کے رکن علی ترین ہوں یا امریکہ کی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹید کروز، دونوں ہی اپنے اکاؤنٹس کو ہیکرز سے محفوظ نہ رکھ پائے۔
بالی وڈ اداکار امیتابھ بچن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو جون 2019 میں ہیک کردیا گیا تھا. ترکی سائبر آرمی 'ایلیڈیز ٹم' نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
ہیکرز نے امیتابھ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی تصویر لگا دی تھی۔
امیتابھ بچن کے بعد گلوکار عدنان سمیع کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ہیک ہوا تھا اور ان کی پروفائل پر بھی عمران خان کی تصویر لگا دی گئی تھی۔
30 ستمبر 2019 کو اداکارہ اور ماڈل نادیہ حسین نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ ان کا فیس بک فین پیج ہیک کرلیا گیا ہے۔
اس واقعے کے ٹھیک ایک ماہ بعد معروف اداکار و گلوکار فرحان سعید نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ پر مداحوں سے ہیک ہونے والے اپنے اکاؤنٹ کو رپورٹ کرنے کی استدعا کی تھی۔
ستمبر 2019 میں ہی پاکستان کے اوپننگ بلے باز فخر زمان کا انسٹا گرام اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا جس کے بارے میں فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے صارفین کو ٹوئٹر پر آگاہ کیا تھا۔

سوشل میڈیا کا استعمال محفوظ کیسے بنایا جاسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو کسی حد تک ’ٹو فیکٹر اوتھینٹیکیشن‘ کے فیچر کے ذریعے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

ملٹی فیکٹر ویریفیکیشن یا ٹو سٹیپ اوتھینٹیکیشن ایک ایسا فیچر ہے جس کے تحت کسی کمپیوٹر صارف کو دو یا اس سے زیادہ ثبوت (یا عوامل) کے بعد ہی اس ویب سائٹ یا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر اپنے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ میں داخل ہونے کے لیے صارفین کو اپنے خفیہ پاس ورڈ کے ساتھ موبائل فون پر دیا گیا کوڈ بھی درج کرنا پڑتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز صارف سے ایسی چیزیں پوچھ سکتے ہیں جس کا علم صرف انھیں خود ہوسکتا ہے۔
اس کے تحت صارفین کو او ٹی پی (یعنی ایک مرتبہ لاگ اِن کرنے کے لیے دیے جانے والا کوڈ) فون نمبر یا ای میل پر دیا جاتا ہے۔
ایک وقتی پاس ورڈ صارف کو بھیجا جاتا ہے جو بتائے بغیر اس اکاؤنٹ میں کوئی داخل نہیں ہوسکتا۔
یہ ایسا ہے جیسے آپ اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے جائیں۔ ایک صارف کے پاس نہ صرف بینک کا ای ٹی ایم کارڈ اپنی ملکیت میں ہونا ضروری ہوتا ہے بلکہ پِن کوڈ نمبر بھی درج کرنا پڑتا ہے جس کا علم صرف صارف کو ہونا چاہیے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر صارفین کے حقوق کی کارکن نگہت داد کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹ محفوظ بنانے کے لیے صارفین کو اپنا مضبوط پاسورڈ باقاعدگی سے تبدیل کرنا چاہیے اور اسے کسی ای میل یا صفحے پر درج نہیں کرنا چاہیے۔ الگ الگ اکاؤنٹ کے پاس ورڈ مختلف ہونے چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کسی مشکوک لنک پر کلک نہیں کرنا چاہیے۔‘
نگہت بتاتی ہیں کہ بعض اوقات معروف شخصیت کو ہدف بنانے کے لیے انھیں خاص ای میل یا پیغامات بھیجے جاتے ہیں تاکہ ان کے اکاؤنٹ ہیک کیے جاسکیں۔
امید ہے کہ سائبر سکیورٹی سے متعلق ان مشوروں کا فائدہ اٹھا کر مستقبل میں لوگ اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ہیک‘ ہونے سے بچا سکیں گے۔


 



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Seattle to end police-free protest zone after shootings

Coronavirus: Majority testing positive have no symptoms